حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سری نگر/ تبیان قرآنی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کشمیری مرثیہ کے علمی، ادبی، کلامی اور تہذیبی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرثیہ کے قدیم متون اور بیاضوں کے تحفظ، ان کی تحقیق و تدوین، کلامی و فلسفیانہ مضامین کی تشریح اور نوجوان ذاکرین کی منظم تربیت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کے شرکا نے کشمیری مرثیہ کو محض ایک ادبی صنف کے بجائے فکری، اعتقادی اور تہذیبی ورثہ قرار دیتے ہوئے اسے تعلیمی اور تحقیقی سطح پر محفوظ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سمیر حسین نے سورۂ یٰسین کی منتخب آیات کی خوش الحان تلاوت کی، جس کے بعد علمی نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
کانفرنس کے دوران سید سمیع اللہ جلالی نے کشمیری مرثیہ ’’اصولِ دین‘‘ کو بطور متن پیش کیا اور اس کے مختلف بیاضوں اور نسخوں میں موجود اختلافات کا تاریخی و تحقیقی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نسخوں میں پائے جانے والے اختلافات مخطوطات کی روایت، نقل و اشاعت اور علاقائی اثرات سمیت مختلف عوامل کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے مرثیہ کے مستند متن کی تشکیل کے لیے قدیم بیاضوں کے تقابلی مطالعے کو ناگزیر قرار دیا۔
اس موقع پر مولانا ذوالفقار علی میر نے ’’اصولِ دین‘‘ میں موجود کلامی اور فلسفیانہ مباحث کی تشریح کی۔ انہوں نے علمِ کلام کے بنیادی مباحث، بالخصوص وجوب، امکان اور فلسفیانہ دلائل سمیت مختلف اصطلاحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مرحوم و مغفور مرزا ابو القاسمؒ کے علمی اسلوب کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیچیدہ فلسفیانہ اور کلامی مباحث کو عام فہم انداز میں پیش کیا۔

مولانا ذوالفقار علی میر کے مطابق مرثیہ کے مصنف کو علمِ کلام، فلسفہ اور منطق کے ساتھ تاریخِ اسلام، علمِ حدیث اور فقہ میں بھی گہری دسترس حاصل تھی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ کشمیری مراثی کو تحقیقی حواشی اور تعلیقات کے ساتھ کتابی شکل میں شائع کیا جائے، تاکہ یہ علمی سرمایہ نئی نسل اور علمی حلقوں کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں قابلِ استفادہ بن سکے۔
سید سمیع اللہ جلالی نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیری مرثیہ کے تحفظ اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک منظم نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں مرثیہ نگاروں نے محدود وسائل کے باوجود اعلیٰ معیار کا ادبی و فکری سرمایہ تخلیق کیا، جبکہ ذاکرین نے اخلاص، محبت اور مسلسل محنت کے ذریعے اسے عوام تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان ذاکرین کی علمی اور فنی تربیت کے لیے ایک باقاعدہ اور درجہ بند نظام تشکیل دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ مرحلہ وار تربیت حاصل کرکے ابتدائی سطح سے اعلیٰ درجے تک اپنی استعداد کو بہتر بنا سکیں۔ ان کے مطابق مرثیہ خوانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے تربیت کا یہ عمل محض رسمی یا تقریبی نوعیت کا نہیں بلکہ باقاعدہ علمی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔
کانفرنس میں شریک دیگر اہلِ علم نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرثیہ پڑھنے کے ساتھ اس کے مفاہیم، تاریخی پس منظر اور اعتقادی و اخلاقی مضامین کو سمجھانے کی کوشش بھی جاری رہنی چاہیے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری مرثیہ صرف نوحہ خوانی کا ذریعہ نہیں بلکہ عقائد، اخلاق، تاریخِ اسلام اور معارفِ اہل بیتؑ کی منتقلی کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔
شرکا نے نوجوان ذاکرین کی تربیت کے لیے باقاعدہ ورکشاپس، مطالعاتی نشستوں اور تعلیمی نصاب تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس میں پیش کی گئی تجاویز میں کشمیری مرثیہ کے قدیم بیاضوں اور مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایک تحقیقی ٹیم کی تشکیل، ان کی باقاعدہ فہرست کی تیاری، علمِ کلام، فلسفہ، تاریخ اور فقہ کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ علمی بورڈ کا قیام اور مراثی کی تحقیق، تدوین و اشاعت کے لیے علمی معیار مقرر کرنا شامل تھا۔
اس کے علاوہ نوجوان ذاکرین کے لیے مبتدی، متوسط، ماہر اور اعلیٰ کے چار درجات پر مشتمل تربیتی نصاب مرتب کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جس میں فنِ خطابت، مرثیہ خوانی، معانی و مفاہیم، عقائد اور تاریخی سیاق و سباق کو شامل کیا جائے۔ شرکا نے مکاتب اور تعلیمی مراکز میں کشمیری مرثیہ کو باقاعدہ مضمون کی حیثیت سے متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کشمیری مرثیہ کشمیر کے اہم فکری، ادبی اور تہذیبی ورثے کا حصہ ہے، جس کے تحفظ، تحقیق و تدوین اور نئی نسل تک منتقلی کے لیے سنجیدہ اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔ شرکا نے اس سلسلے میں آئندہ بھی علمی و تحقیقی نشستوں کے انعقاد اور پیش کی گئی تجاویز کو عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔









آپ کا تبصرہ